کلمات قصار
نہج البلاغہ حکمت 213: صبر و درگزر
(٢۱٣) وَ قَالَ عَلَیْهِ السَّلَامُ
(۲۱۳)
اَغْضِ عَلَى الْقَذٰى وَ اِلَّا لَم تَرْضَ اَبَدًا.
تکلیف سے چشم پوشی کر و، ورنہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔
ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خامی و کمزوری ہوتی ہے۔ اگر انسان دوسروں کی خامیوں اور کمزوریوں سے متاثر ہو کر ان سے علیحدگی اختیار کرتا جائے، تو رفتہ رفتہ وہ اپنے دوستوں کو کھودے گا اور دنیا میں تنہا اور بے یارو مددگار ہو کر رہ جائے گا، جس سے اس کی زندگی تلخ اور الجھنیں بڑھ جائیں گی۔ ایسے موقع پر انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس معاشرہ میں اسے فرشتے نہیں مل سکتے کہ جن سے اسے کبھی کوئی شکایت پیدا نہ ہو۔ اسے انہی لوگوں میں رہنا سہنا اور انہی لوگوں میں زندگی گزارنا ہے۔ لہٰذا جہاں تک ہو سکے ان کی کمزوریوں کو نظر انداز کرے اور ان کی ایذا رسانیوں سے چشم پوشی کرتا رہے۔